You are currently viewing لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور

لیڈی ریڈنگ ہسپتال۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا پشاور میں واقع ہے۔ یہ پاکستان میں اہم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں سے ایک ہے۔ اسے لویا ہسپتال (بڑا ہسپتال) اور جرنیلی ہسپتال بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ کی بیوی ایلس اسہاک ریڈنگ کے نام پر ہے۔۔
لارڈ ریڈنگ برطانوی سیاست دان اور وائسرائے ہند لبرل پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوا 1911ء میں اٹارنی جنرل بنایا گیا اور 1913ء سے 1921ء تک چیف رہا۔ 1921ء میںہندوستان کا وائسرائے ہو کر آیا اور 1926ء میں ریٹائر ہوا۔۔
لارڈ ریڈنگ کا اصل نام روفس ڈیئنل ائسیکس تھا اور ہندوستان میں پہلا یہودی وائسرائے تھا۔
جب 1924 میں اپنی بیگم لیڈی ایلس اسہاک ریڈنگ کے ہمراہ پشاور کے دورے پر آئے تھے۔ ان کا قیام قلعہ بالا حصار میں تھا ۔ لیڈی ریڈنگ ایلس اسہاک ریڈنگ قلعہ بالاحصار سے شہر کا نظارہ کرہی تھی اور شہرکی سیرکی طرف مائل ہوگئیں ۔ اس نے شہر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کی خواہش کی تعمیل میں گھوڑا مہیا کیا گیا اور وہ شہرشہرکی سیرکیلئے گئی۔ جب وہ واپس قلعے کی طرف لوٹ رہی تھی تو گھوڑا خوف زدہ ہوا،اور لیڈی گھوڑے سے گر گئی۔
اس کے نتیجے میں لیڈی ریڈنگ کو چوٹیں آئیں۔ طبی امداد کی عدم فراہمی نے اسے فوری طور پر بے ہوش کردیا۔۔ اسے فوری طور پر ایجرٹن اسپتال پہنچایا گیا جہاں طبی سہولیات قلیل تھیں۔ جولیڈی ریڈنگ کے چوٹوں سے نمٹنے کے قابل نہیں تھے،جس کے وجہسے اسے رائل آرٹلری اسپتال منتقل کردیا گیا جسے اب “کمبائنڈ ملٹری اسپتال” (یا سی ایم ایچ) پشاور کہا جاتا ہے جہاں ان کا مناسب علاج کیا گیالیڈی ریڈنگ صحت ہوگئ لیکن اس پر اس واقعے کے بے تحاشا اثر ہوا اوردل میں پشاور کی ناکافی طبی سہولت کے خلش رہ گئ۔۔۔ 1926 میں لارڈ ریڈنگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دہلی سے پشاور آئیں اور ایجرٹن ہسپتال کی جگہ ایک معیاری اسپتال تعمیر کرنے کی مہم چلائی جس کے لیئے اس نے دس لاکھ روپے جمع کیئے۔ اس تعمیر کے لئے انہوں نے 52000 ہزار روپے جوکہ اس وقت کافی بڑی رقم تھی اپنی جیب سے ادا کردی ۔۔
اس اسپتال کو بعد میں 150 بستروں پر مشتمل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ دیا گیا اور 1930 میں یہ 200 بستروں والا ہسپتال تھا۔ خان بہادر عبدالصمد خان اسپتال کے پہلے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بن گئے۔ محمد ایاز خان 1973 میں اسپتال کا پہلا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوا تھا۔ یہ اسپتال 1955 میں خیبر میڈیکل کالج سے میڈیکل ، سرجیکل ، ای این ٹی ، آئی اور ٹی بی وارڈز سے وابستہ ہوگیا ۔
اس ہسپتال میں اب پورے صوبے اور افغانستان سے بھی مریضوں کے وسیع شعبے کی کوریج ہے۔ 24/7 حادثات اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ ایک اندازے کے مطابق ، اس کا آؤٹ پیپٹ ڈیپارٹمنٹ کلینک روزانہ 5500 مریضوں کو دیکھتا ہے اور حادثات اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں CASUALTY کیسز کی تعداد 2500 یا 3000 سے زیادہ ہے۔۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور شہر میں موجودہ بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کا مرکز مرکز رہا ہے۔

Leave a Reply